"I have a doubt that I want to dispel," Sanyasi said. If you order your life. The king agreed. Sanyasi said to arrange such a room for the prince. There is only one window and a hole through which we can peek into this room. The king said there is such a room. Make Sanyasi Bolas white rice which is half sweet and half salty. Feed the sweet rice to the prince. Feed the princess salted rice. Then send them to this room to sleep and lock the door from the outside. Water should not be provided inside the room. That's what was done. The princess would wake up at night to eat salted rice because she was thirsty. While the prince slept because he had eaten sweet rice, he did not feel thirsty. The princess began to walk around the room because of thirst. She couldn't even get out because the door was closed. She looked at the prince. The prince is asleep. The princess took the form of a snake and came out of the window. She drank water from the river and came back to the room. In fact, she was a snake in human form. The king was watching the scene through the hole. He became very upset. The king went back to his palace. The king asked Sanyasi how he doubted it. "I saw this girl in another country ten years ago," said Sanyasi. The prince's wife had the same disease. But I could not cure him and he died. She was just as beautiful and young then. It's actually a snake. Which is several hundred years old. She has married many princes and kings. Its weakness is the treasure of gold. Which is only with kings. So she marries him and lives a life of luxury. He must be separated from the prince. Otherwise, the prince will soon die from its poison. But it will not leave the prince easily, so he will have to be killed. Then Sanyasi came up with a recipe.
The next day the king said to the wedding. From today you will make your own bread for the prince. Servants make burnt bread, which causes pain in the prince's stomach. The serpent is afraid of fire, he forbade. But I will only watch over the king's stubbornness. When she goes to the edge of the oven to see the bread being made. The king pushed her into the oven. The serpent will burn to ashes. Sanyasi gave the king a stone in exchange for this dust. A stone that turns anything into gold. He said that dust has this power. That they healed even the dying man. When the prince found out about this incident, he was very sorry. But in a short time he recovered. After the prince had fully recovered, Sanyasi left. Thus the king and the prince laughed and rejoiced.
Click on the link below to watch the same event with beautiful video.
بادشاہ اور ناگن
ایک بادشاہ کا بیٹا بہت زیادہ بیمار ہو گیا۔ بادشاہ نےتمام ممالک میں یہ علان کردیا۔ جو میرے بیٹے کا علاج کرے گا۔ ۔میں اس کو انعام میں بہت سارا سونا دوں گا۔شہزادے کو یہ بیماری تھی اس کے پیٹ میں درد رہتا اور وہ دن بدن کمزور ہوتا جارہا تھا۔بہت سارے حکیم آئے ۔ مگر شہزاد ٹھیک نہ ہوا۔ کئی دن گزر گئے۔ بادشاہ مایوس ہونے لگا۔ کئی دن بعد ایک سنیاسی اس کے دربار میں آیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ میں شہزادے کا علاج کر سکتا ہوں۔ بادشاہ کو اس کی بات پر یقین نہ آیا۔ سنیاسی کی ضد پر اس کو علاج کا ایک موقع دیا گیا۔ دوسرے دن بادشاہ اس کو لے کر شہزادے کے محل گیا۔ شہزاد کا محل دریا کے کنارے تھا۔ یہ جگہ بہت خوبصورت تھی۔ سنیاسی نے شہزادے سے ملاقات کی۔ وہاں شہزادے کی بیوی بھی موجود تھی۔ جو بہت زیادہ خوبصورت تھی۔ سنیاسی نے شہزادے سے چند سوال کیے۔ اور بادشاہ کے ساتھ اس کے محل میں واپس آگیا۔ سنیاسی نے بادشاہ سے کہا کہ میں آپ سے چند سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ مگر آپ اس کی وضاحت طلب نہیں کریں گے۔ بعد میں آپ خود ہی سمجھ جائیں گے۔ اس نے پہلا سوال پوچھا شہزادہ کتنے عرصے سے بیمار ہے۔ بادشاہ نے جواب دیا چھے مہینے سے۔ اس کی شادی کب ہوئی۔ بادشاہ بولا ایک سال ہوگیا ہے۔ اس کی بیوی کس ملک کی شادی ہے۔ بادشاہ بولا یہ شہزادی نہیں ہے۔ شہزادے کو شکار کے دوران جنگل میں ملی۔ شہزادے کے ساتھ یہاں آئی اور شہزادے نے اس سے شادی کرلی۔سنیاسی بولا مجھے ایک شک ہے جو میں دور کرنا چاہتا ہوں۔ آپ اگر جان کی امان دیں تو۔ بادشاہ مان گیا۔ سنیاسی نے کہا شہزادے کے لیے ایسے کمرے کا بندوبست کریں۔ جس میں صرف ایک کھڑکی ہو اور ایک سوراخ ہو جس سے ہم چھپ کر اس کمرے میں دیکھ سکے۔ بادشاہ بولا ایسا کمرہ موجود ہے۔ سنیاسی بولاسفید رنگ کے چاول بنوائیں جو آدھے میٹھے اور آدھے نمکین ہوں۔ میٹھے چاول شہزادے کو کھلائیں۔ نمکین چاول شہزادی کو کھلائیں۔ پھر ان کو سونے کے لئے اس کمرے میں بھیجے اور باہر سے دروازہ بند کردیں۔ کمرے کے اندر پانی کا بندوبست نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا ہی کیا گیا۔ شہزادی نمکین چاول کھانے کی وجہ سے رات کو جاگ گی کیونکہ اس کو پیاس لگی تھی۔ جبکہ شہزادہ سویا رہا کیونکہ اس نے میٹھے چاول کھائے تھے اس لیے اس کو پیاس نہ لگی۔ شہزادی کمرے میں پیاس کی وجہ سے ٹہلنے لگی۔ دروازہ بند ہونے کی وجہ سے باہر بھی نہ نکل سکی۔ اس نے شہزادے کو دیکھا ۔ شہزادہ سویا ہوا ہے۔ شہزادی نے سانپ کی شکل اختیار کی اور کھڑکی سے باہر نکل گی۔ دریا سے پانی پی کر واپس کمرے میں آگئ۔ دراصل وہ انسان کی شکل میں ایک سانپ تھی۔ بادشاہ یہ منظر سوراخ سے دیکھ رہا تھا۔ وہ بہت زیادہ پریشان ہوگیا۔ بادشاہ اپنے محل واپس چلا گیا۔ بادشاہ نے سنیاسی سے پوچھا کہ تمہیں اس پر کیسے شک ہوا۔ سنیاسی بولا میں نے اس لڑکی کو دس سال قبل ایک اور ملک میں دیکھا تھا۔ یہ جس شہزادے کی بیوی تھی اس کو بھی یہی مرض تھا۔ مگر میں اس کا علاج نہ کر سکا اور وہ مر گیا۔ اس وقت بھی یہ ایسی ہی خوبصورت اور جوان تھی۔ دراصل یہ ایک ناگن ہے۔ جس کی عمر کئ سو سال ہے۔ اس نے بہت سے شہزادوں اور بادشاہوں سے شادی کی ہے۔ اس کی کمزوری سونا کا خزانہ ہے۔ جو صرف بادشاہوں کے پاس ہوتا ہے۔ اس لئے ان سے شادی کرتی ہے اور عیش و عشرت کی زندگی گزرتی ہے۔ اس کو شہزادے سے الگ کرنا ہوگا۔ ورنہ اس کے زہر سے جلد ہی شہزادہ مر جائے گا۔ لیکن یہ آسانی سے شہزادے کو نہیں چھوڑے گی اس لیے اس کو مارنا پڑے گا۔ پھر سنیاسی نے ایک ترکیب بتائی۔دوسرے دن بادشاہ نے شادی سے کہا۔ آج سے شہزادے کے لیے تم خود روٹی بناؤں گی۔ نوکر جلی ہوئی روٹی بناتے ہیں جس سے شہزادے کے پیٹ میں درد ہوتا ہے۔ ناگن آگ سے ڈرتی ہے اس نے منع کردیا۔ مگر بادشاہ کی ضد پر بولی کے میں صرف نگرانی کروں گی۔ جب وہ روٹی بنتی دیکھنے کے لئے تنور کے کنارے گی۔ بادشاہ نے اس کو تنور میں دھکا دے دیا۔ ناگن جل کر خاک ہو گی۔ سنیاسی نے اس خاک کے بدلے بادشاہ کو پارس پتھر دیا۔ ایسا پتھر جو کسی بھی چیز کوسونے بدل دیتا۔ اس نے بتایا کہ خاک میں یہ طاقت ہے۔ کہ وہ مرتے ہوئے آدمی کو بھی ٹھیک کر دیے۔ شہزادے کو جب اس واقعہ کا پتہ چلا تو اس کو بہت افسوس ہوا۔ مگر تھوڑے عرصے میں وہ ٹھیک ہوگیا۔ شہزادے کے مکمل صحت یاب ہونے کے بعد سنیاسی وہاں سے چلا گیا۔ اس طرح بادشاہ اور شہزادہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔یہی واقعہ خوبصورت ویڈیو کے ساتھ دیکھنے کے لیے نیچے لنک پر کلک کریں۔
Post a Comment